Wednesday, August 8, 2012

Iqbal - Tina Sani - Shikwa - Jawab e Shikwa





کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا ميں بھي کوئي گل ہوں کہ خاموش رہوں




جرات آموز مري تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو

ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
ساز خاموش ہيں ، فرياد سے معمور ہيں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہيں ہم

اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھي سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھي سن لے

===
تھي فرشتوں کو بھي حيرت کہ يہ آواز ہے کيا
عرش والوں پہ بھي کھلتا نہيں يہ راز ہے کيا
تا سر عرش بھي انساں کي تگ و تاز ہے کيا
آگئي خاک کي چٹکي کو بھي پرواز ہے کيا


غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں

شوخ و گستاخ يہ پستي کے مکيں کيسے ہيں

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھي برہم ہے

تھا جو مسجود ملائک' يہ وہي آدم ہے
عالم کيف ہے' دانائے رموز کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو

بات کرنے کا سليقہ نہيں نادانوں کو
===
صفحہ دہر سے باطل کو مٹايا ہم نے
نوع انساں کو غلامي سے چھڑايا ہم نے
تيرے کعبے کو جبينوں سے بسايا ہم نے
تيرے قرآن کو سينوں سے لگايا ہم نے

پھر بھي ہم سے يہ گلہ ہے کہ وفادار نہيں
ہم وفادار نہيں ، تو بھي تو دلدار نہيں

امتيں اور بھي ہيں ، ان ميں گنہ گار بھي ہيں
عجز والے بھي ہيں ، مست مےء پندار بھي ہيں
ان ميں کاہل بھي ہيں، غافل بھي ہيں، ہشيار بھي ہيں
سينکڑوں ہيں کہ ترے نام سے بيزار بھي ہيں

رحمتيں ہيں تري اغيار کے کاشانوں پر
برق گرتي ہے تو بيچارے مسلمانوں پر

===
آئي آواز' غم انگيز ہے افسانہ ترا
اشک بے تاب سے لبريز ہے پيمانہ ترا
آسماں گير ہوا نعرئہ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دل ديوانہ ترا

شکر شکوے کو کيا حسن ادا سے تو نے

ہم سخن کر ديا نبدوں کو خدا سے تو نے


صفحہ دہرئے سے باطل کو مٹايا کس نے؟

نوع انساں کو غلامي سے چھڑايا کس نے؟
ميرے کعبے کو جبينوں سے بسايا کس نے؟
ميرے قرآن کو سينوں سے لگايا کس نے؟

تھے تو آبا وہ تھارے ہي' مگر تم کيا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

===================
کيوں مسلمانوں ميں ہے دولت دنيا ناياب
تيري قدرت تو ہے وہ جس کي نہ حد ہے نہ حساب
تو جو چاہے تو اٹھے سينہء صحرا سے حباب
رہرو دشت ہو سيلي زدہء موج سراب

طعن اغيار ہے ، رسوائي ہے ، ناداري ہے
کيا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواري ہے؟

يہ شکايت نہيں ، ہيں ان کے خزانے معمور
نہيں محفل ميں جنھيں بات بھي کرنے کا شعور
قہر تو يہ ہے کہ کافر کو مليں حور و قصور
اور بيچارے مسلماں کو فقط وعدہ حور

اب وہ الطاف نہيں ، ہم پہ عنايات نہيں
بات يہ کيا ہے کہ پہلي سي مدارات نہيں

=====================
واعظ قوم کي وہ پختہ خيالي نہ رہي
برق طبعي نہ رہي، شعلہ مقالي نہ رہي
رہ گئي رسم اذاں روح بلالي نہ رہي
فلسفہ رہ گيا ، تلقين غزالي نہ رہي

مسجديں مرثيہ خواں ہيں کہ نمازي نہ رہے

يعني وہ صاحب اوصاف حجازي نہ رہے

کيا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور

شکوہ بے جا بھي کرے کوئي تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطر ہستي کا ازل سے دستور
مسلم آئيں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم ميں حوروں کا کوئي چاہنے والا ہي نہيں

جلوئہ طور تو موجود ہے' موسي ہي نہيں


جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئي فن' تم ہو

نہيں جس قوم کو پروائے نشيمن، تم ہو
بجلياں جس ميں ہوں آسودہ' وہ خرمن تم ہو
بيچ کھاتے ہيں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

ہو نکو نام جو قبروں کي تجارت کرکے

کيا نہ بيچو گے جو مل جائيں صنم پتھر کے


منفعت ايک ہے اس قوم کي' نقصان بھي ايک

ايک ہي سب کا نبي' دين بھي' ايمان بھي ايک
حرم پاک بھي' اللہ بھي' قرآن بھي ايک
کچھ بڑي بات تھي ہوتے جو مسلمان بھي ايک

فرقہ بندي ہے کہيں اور کہيں ذاتيں ہيں

کيا زمانے ميں پنپنے کي يہي باتيں ہيں
======
بت صنم خانوں ميں کہتے ہيں ، مسلمان گئے
ہے خوشي ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزل دہر سے اونٹوں کے حدي خوان گئے
اپني بغلوں ميں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن کفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہيں
اپني توحيد کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہيں
======================
شور ہے، ہو گئے دنيا سے مسلماں نابود
ہم يہ کہتے ہيں کہ تھے بھي کہيں مسلم موجود
وضع ميں تم ہو نصاري تو تمدن ميں ہنود
يہ مسلماں ہيں! جنھيں ديکھ کے شرمائيں يہود

يوں تو سيد بھي ہو، مرزا بھي ہو، افغان بھي ہو

تم سبھي کچھ ہو ، بتائو تو مسلمان بھي ہو


ہر مسلماں رگ باطل کے ليے نشتر تھا

اس کے آئينہء ہستي ميں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھا
ہے تمھيں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا

باپ کا علم نہ بيٹے کو اگر ازبر ہو

پھر پسر قابل ميراث پدر کيونکر ہو

ہر کوئي مست مے ذوق تن آساني ہے

تم مسلماں ہو! يہ انداز مسلماني ہے
حيدري فقر ہے نے دولت عثماني ہے
تم کو اسلاف سے کيا نسبت روحاني ہے؟

وہ زمانے ميں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

خودکشي شيوہ تمھارا، وہ غيور و خود دار

تم اخوت سے گريزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلي کو، وہ گلستاں بہ کنار

اب تلک ياد ہے قوموں کو حکايت ان کي

نقش ہے صفحہ ہستي پہ صداقت ان کي
=======
بادہ کش غير ہيں گلشن ميں لب جو بيٹھے
سنتے ہيں جام بکف نغمہ کو کو بيٹھے
دور ہنگامہ گلزار سے يک سو بيٹھے
تيرے ديوانے بھي ہيں منتظر 'ھو' بيٹھے

اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزي دے
برق ديرينہ کو فرمان جگر سوزي دے
======================
ديکھ کر رنگ چمن ہو نہ پريشاں مالي
کوکب غنچہ سے شاخيں ہيں چمکنے والي
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالي
گل بر انداز ہے خون شہدا کي لالي

رنگ گردوں کا ذرا ديکھ تو عنابي ہے

يہ نکلتے ہوئے سورج کي افق تابي ہے

مثل بو قيد ہے غنچے ميں، پريشاں ہوجا

رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہوجا
ہے تنک مايہ تو ذرے سے بياباں ہوجا
نغمہ موج سے ہنگامہء طوفاں ہوجا

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر ميں اسم محمد سے اجالا کر دے

عقل ہے تيري سپر، عشق ہے شمشير تري

مرے درويش! خلافت ہے جہاں گير تري
ماسوي اللہ کے ليے آگ ہے تکبير تري
تو مسلماں ہو تو تقدير ہے تدبير تري

کي محمد سے وفا تو نے تو ہم تيرے ہيں

يہ جہاں چيز ہے کيا، لوح و قلم تيرے ہيں

0 comments:

Post a Comment